ابنا: انہوں نے سفیر کے سامنے اپنی گزارش تحریری طور پر رجسٹر کرائی اور میانمار میں مسلمانوں کے جان و عزت و آبرو کی فوری حفاظت کی اپیل کی۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ میانمار سے آرہی خبروں کے مطابق وہاں مسلمانوں پر سلسلہ وار ہورہے حملوں، ان کے قتل عام، ان کو اجاڑنے ، ان کی املاک لوٹنے اور آگ لگانے کے عمل کئے جارہے ہیں ۔ جو انصاف ، انسانیت اور امن کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ میانمار کے امن و امان والا ملک ہونے کی جو شبیہ عالمی پیمانہ پر ہے ،اس کے بھی خلاف ہے۔ لہٰذا ہماری آپ سے گذارش ہے کہ آپ میانمار کی حکومت سے اس معاملہ میں خصوصی دخل اندازی کرنے کے لئے کہیں اور کارگر قدم اٹھانے کے لئے کہیں تاکہ حالات پر قابو پایا جاسکے اور اقلیتوں کے حقوق جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ کیا جاسکے اور انہیں ان کا بنیادی حق مل سکے جس کے وہ میانمار کے شہری ہونے کے ناطے مستحق ہیں۔......./169
12 جولائی 2012 - 19:30
News ID: 328814
میانمار کے مسلمانوں پر وہاں موجود ملٹری اور شدت پسند جماعت کی جانب سے حملہ، ان کی املاک کو لوٹ کر آگ لگا دینا، اپنے آبائی وطن سے بے سر و سامانی کی حالت میں جان و عزت و آبرو بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوجانا، کثیر تعداد کا بنگلہ دیش میں پناہ لینا یہ وہ درد انگیز عوامل ہیں جن سے بے چین ہو کر دہلی کی خدائی خدمتگار تنظیم کے عہدیداروں نے میانمار کے سفیر سے ایک وفد کی صورت میں ملاقات کی اور انہیں میمورنڈم پیش کیا۔